سرینگر،11فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی اوکے) کے لوگ ایک بار پھر پاکستان اور چین کے خلاف سڑکوں پر اترے گئے ہیں۔چین کی جیلوں میں ایک دہائی سے زائدعرصے سے سڑرہے اپنے خاندانوں کی رہائی کی مانگ کولے کرپاکستان کے گلگت کے شہر میں لوگوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔اس مظاہرے میں صرف گلگت کے لوگ ہی نہیں بلکہ پشاور کے لوگ بھی شامل ہوئے، ان لوگوں نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چین کے جیلوں میں مقفل ہوئے اپنے خاندانوں کو آزاد کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ چینی جیلوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر معمولی جرائم کے الزامات میں 300 سے زائد سے پاکستانیوں کو ایک دہائی سے زائد عرصہ سے بندرکھاگیاہے۔ان میں سے کچھ نابالغ بھی ہیں۔چین ان کو چھوڑنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہا ہے، ان کے انسانی حقوق کی بھی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ مظاہرین نے اس معاملے میں پاکستان کی حکومت کے غیر ذمہ دار رویہ پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا۔لگتا ہے کہ پاکستان پی اوکے میں چین کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، دونوں ممالک پی او کے کے قدرتی وسائل کا استحصال کر رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں پاکستان کی حکومت اور چین کے خلاف حالیہ مظاہرے تیز ہوگئے ہیں۔ گلگت۔ بلوچستان کے منور خان کا کہنا ہے کہ ہمارے لوگوں کو چین میں بہت سے سال تک جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے، انہیں مدد ملنی چاہئے، چین ہمارے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہا ہے، جیلوں میں بند لوگ بدترین زندگی گذار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ان لوگوں کو جیلوں میں 10سال سے زائد عرصے سے قیدکررکھاہے۔خان نے کہا کہ ہم پاکستانی حکومت اور پاکستانی سپریم کورٹ سے چین سے اپنے خاندانوں کو لانے کے لئے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں واپس لانے میں ہماری مددکرے۔چین کی جیل میں رہنے والے نذیر احمد نے کہاکہ میں نے چین میں 10 سال اور دو مہینے جیل میں گزارے، میں پاکستان حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ چین کی جیلوں میں بند یہاں کے لوگوں کو واپس لائے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا تشدد جھیلنے سے بہتر ہے کہ ہم پاکستان کی جیل میں مر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی پر شرم آتی ہے، چین کی پاکستان سے دوستی صرف ایک دکھاوا ہے، کوئی بھی اس حقیقت کو نہیں جانتا۔اس کے علاوہ ایک دوسرے شخص رضا خان نے کہاکہ میں نے بیجنگ کی جیل میں نو سال دو ماہ کا وقت گزارا، یہ بالکل جہنم کی طرح تھا، لہذا ہم معصوم لوگوں کو چین کی جیل سے رہا کرانے کی اپیل کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین حکومت کسی کی سنتی ہی نہیں ہے، لوگ امن سے سانس تک نہیں لے سکتے، لوگ مسائل سے دو چار ہیں اور واپس آنا چاہتے ہیں۔